بین الاقوامی اہن بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکی خفیہ ادارے CIA نے 11 ستمبر کے حملوں کے 25 سال مکمل ہونے پر ان حملوں پر ختم ہونے والے ماہ و سال سے متعلق 71 انٹیلی جنس رپورٹیں شائع کی ہیں؛ ایسی دستاویزات جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ادارے نے حملوں سے برسوں پہلے القاعدہ اور اسامہ بن لادن کے خطرے کے بارے میں امریکی صدور کو قابل توجہ معلومات فراہم کی تھیں۔
سی بی ایس کے مطابق، اس مجموعے میں حملوں سے پہلے کے دور سے متعلق 70 دستاویزات، اور ایک دن بعد سے متعلق ایک رپورٹ، شامل ہے۔ دستاویزات زیادہ تر وہ جائزے ہیں جو CIA کے تجزیہ کاروں نے "صدر کی روزانہ رپورٹ" کے لئے تیار کئے تھے؛ ایسی رپورٹ جو صدر اور امریکی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کو فراہم کی جاتی تھی۔
دوسری اور آخری قسط:
اسی طرح 6 اگست 2001 کا مشہور نوٹ ـ جس کا عنوان "بن لادن امریکہ میں حملے کے لئے پرعزم ہے" ـ بھی دستاویزات کے اس مجموعے میں شامل ہے۔ یہ دستاویز امریکہ کے اندر مشکوک سرگرمیوں کا عندیہ دیتی تھی جو ہائی جیکنگ یا دیگر حملوں کی تیاری سے مطابقت رکھتی تھیں اور نیویارک میں وفاقی عمارتوں کی اس وقت کی نگرانی کا بھی ذکر کرتی تھیں۔
اس وقت کے CIA سربراہ، جارج ٹینٹ نے بعد میں 11 ستمبر کمیشن کے سامنے اس وقت کی معلوماتی صورتحال کو یوں بیان کیا کہ "سسٹم کی سرخ بتی جھپک رہی تھی (یعنی خطرے کا اشارہ دے رہی رہی تھیا؛ (The system was blinking red.)"۔ کمیشن نے بھی اپنی حتمی رپورٹ میں اعلان کیا کہ امریکی انٹیلی جنس برادری کی اکثریت نے 2001 کے موسم گرما میں محسوس کر لیا تھا کہ دھمکی آمیز رپورٹوں کی تعداد اور شدت بے مثال ہے۔
حملوں کے اگلے دن کی رپورٹ؛ بن لادن کے آپریشن سے آگاہی کا دعویٰ
سی بی ایس نے اپنی رپورٹ میں مزید بتایا کہ آخری شائع شدہ دستاویز 12 ستمبر 2001 سے تعلق رکھتی ہے، یعنی ورلڈ ٹریڈ سینٹر، پینٹاگون پر حملوں اور پنسلوانیا میں ایک طیارہ گرنے کے ایک دن بعد، جو بتاتی ہے کہ بڑھتے ہوئے شواہد موجود تھے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ افغانستان اور خلیج فارس کے علاقے میں کچھ سنی انتہا پسندوں کو بن لادن کی سرپرستی میں ہونے والے حملوں کے قریب الوقوع ہونے کا علم تھا۔

اس رپورٹ میں یہ بھی آیا ہے کہ اگست 2001 میں بن لادن اور طالبان کے رہنما ملا عمر کے درمیان، بن لادن کے دہشت گردانہ حملوں پر اصرار کی وجہ سے، اختلاف ابھرا تھا۔ CIA کے جائزے کے مطابق، بن لادن نے ملا عمر سے کہا تھا کہ ایسے آپریشن جاری ہیں جو امریکہ کو بڑا نقصان پہنچائیں گے۔
رپورٹ میں قندھار میں مقیم ایک عرب کے بیان کی طرف بھی اشارہ ہؤا ہے جس نے حملوں کو دو سال کی منصوبہ بندی کا نتیجہ قرار دیا تھا اور امکان ظاہر کیا تھا کہ کانگریس کی عمارت اور وائٹ ہاؤس بھی آپریشن کے اہداف میں شامل تھے۔
ان دستاویزات کی اشاعت کے باوجود، معلومات کا بڑا حصہ اب بھی خفیہ رکھا گیا ہے۔ سابقہ انٹیلی جنس عہدیداروں نے یہ بھی کہا ہے کہ 1996 اور اس سے بھی پہلے سے بن لادن کے بارے میں CIA کے انتباہات سے متعلق کچھ رپورٹیں اور 2001 سے متعلق متعدد دستاویزات اس مجموعے میں شائع نہیں ہوئیں۔

9/11 کمیشن کی حتمی رپورٹ نے بالآخر ان حملوں کا سد باب کرنے میں امریکی حکومت کی ناکامی کو "تخیل، پالیسی سازی، صلاحیتوں اور انتظام کی شکستوں" کا مجموعہ سمجھا ہے، جبکہ "تخیل" [یا حملے کی وسعتوں اور روشوں کے بارے میں تصور اور اندازوں] کی شکست (failure of imagination)" کو "سب سے اہم ناکامی" قرار دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ